Fassara Urdu zuwa Burma - Mai fassarar kan layi kyauta da nahawu daidai | Fassarar Franco

بین الاقوامی تعلقات، عالمی تجارت اور ثقافتی تبادلوں کے اس جدید دور میں مختلف زبانوں کے درمیان ترجمے کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اردو اور برمی (جسے میانمار کی زبان بھی کہا جاتا ہے) دو ایسی زبانیں ہیں جو بالکل مختلف لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اردو ایک ہندوستانی-آریائی (Indo-Aryan) زبان ہے جو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور اس میں عربی، فارسی اور سنسکرت کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ دوسری طرف، برمی ایک ہند-چینی (Sino-Tibetan) زبان ہے جو اپنے گول اور منفرد رسم الخط اور صوتیاتی لہجے (Tonal Language) کے لیے جانی جاتی ہے۔ ان دونوں زبانوں کے درمیان ترجمہ کرنا محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دو بالکل الگ تہذیبوں، عقائد اور سماجی اقدار کو آپس میں مربوط کرنے کا ایک انتہائی نازک عمل ہے۔

0

بین الاقوامی تعلقات، عالمی تجارت اور ثقافتی تبادلوں کے اس جدید دور میں مختلف زبانوں کے درمیان ترجمے کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اردو اور برمی (جسے میانمار کی زبان بھی کہا جاتا ہے) دو ایسی زبانیں ہیں جو بالکل مختلف لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اردو ایک ہندوستانی-آریائی (Indo-Aryan) زبان ہے جو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور اس میں عربی، فارسی اور سنسکرت کے گہرے اثرات نمایاں ہیں۔ دوسری طرف، برمی ایک ہند-چینی (Sino-Tibetan) زبان ہے جو اپنے گول اور منفرد رسم الخط اور صوتیاتی لہجے (Tonal Language) کے لیے جانی جاتی ہے۔ ان دونوں زبانوں کے درمیان ترجمہ کرنا محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ دو بالکل الگ تہذیبوں، عقائد اور سماجی اقدار کو آپس میں مربوط کرنے کا ایک انتہائی نازک عمل ہے۔

لسانی ساخت اور جملوں کی ترتیب کا تقابلی جائزہ

اردو اور برمی زبانوں کے قواعد و ضوابط میں ایک بنیادی مماثلت ان کے جملوں میں الفاظ کی ترتیب ہے۔ دونوں زبانیں "فاعل-مفعول-فعل" (Subject-Object-Verb یا SOV) کی ساخت پر کاربند ہیں۔ مثال کے طور پر، اردو میں ہم کہتے ہیں "احمد خط لکھتا ہے"۔ برمی زبان میں بھی جملے کی ترتیب یہی رہتی ہے، یعنی احمد (فاعل)، خط (مفعول) اور لکھنا (فعل)۔ یہ گرامر کی ترتیب ان مترجمین کے لیے ایک بڑی سہولت فراہم کرتی ہے جو انگریزی جیسی زبانوں (جہاں ساخت SVO ہوتی ہے) کے برعکس کام کر رہے ہوتے ہیں۔

تاہم، اس مماثلت کے باوجود دونوں زبانوں کی داخلی گرامر میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔ برمی زبان میں جملے کے مختلف اجزاء کے باہمی تعلق کو واضح کرنے کے لیے مخصوص لاحقوں یا گرامر کے ذرات (Particles) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اردو میں اس مقصد کے لیے حروفِ جار جیسے کہ "نے"، "کو"، "سے"، "پر" اور "کا/کی/کے" استعمال ہوتے ہیں۔ برمی زبان میں ان حروف کے ہم پلہ گرامر کے ذرات کا استعمال بہت زیادہ مخصوص ہوتا ہے اور سیاق و سباق کے مطابق بدل جاتا ہے۔ اگر مترجم برمی گرامر کے ان ذرات کے استعمال میں غلطی کرے تو جملہ اپنا اصل مفہوم کھو دیتا ہے یا اس کا مطلب بالکل ہی غیر واضح ہو جاتا ہے۔

ثقافتی اور مذہبی اصطلاحات کی منتقلی کے چیلنجز

اردو زبان کے سماجی اور ثقافتی ڈھانچے پر اسلامی تاریخ، تصوف اور برصغیر کی مشترکہ تہذیب کے گہرے نقوش ہیں۔ اس کے برعکس، میانمار کی اکثریت بدھ مت کی پیروکار ہے، جس کی وجہ سے برمی زبان پر بدھ مت کی تعلیمات اور پالی (Pali) زبان کا گہرا اثر ہے۔ جب کوئی مترجم اردو کی مذہبی یا روایتی اصطلاحات جیسے کہ "رضائے الہی"، "توکل"، "برکت" یا روزمرہ کے دعائیہ کلمات جیسے "انشاء اللہ" کا برمی میں ترجمہ کرنا چاہتا ہے، تو لفظی ترجمہ ناممکن اور بے معنی ہو جاتا ہے۔

ان حالات میں مترجم کو "ثقافتی متبادلات" (Cultural Equivalents) تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مترجم کو برمی معاشرے اور زبان میں ایسی اصطلاحات یا فقرے تلاش کرنے ہوں گے جو قاری کے ذہن میں وہی تاثر اور احترام پیدا کریں جو اردو کا اصل لفظ پیدا کرتا ہے۔ اس عمل کے لیے مترجم کا صرف دونوں زبانوں کا ماہر ہونا کافی نہیں بلکہ دونوں مذاہب، ثقافتوں اور سماجی آداب کا گہرا مطالعہ ہونا بھی ضروری ہے۔

ادب، احترام اور سماجی درجات (Honorifics)

اردو زبان اپنے شائستہ لہجے اور احترام کے نظام کے لیے مشہور ہے۔ ہم مخاطب کی عمر اور مرتبے کے لحاظ سے "تو"، "تم" اور "آپ" کا فرق رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق افعال کی شکلیں بھی تبدیل ہوتی ہیں۔ برمی زبان میں ادب اور احترام کا یہ نظام اردو سے بھی زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہے۔

برمی زبان میں ضمائر (Pronouns) کا انتخاب گفتگو کرنے والوں کے سماجی مرتبے، عمر، جنس اور ان کے درمیان تعلق پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی بدھ راہب (Buddhist Monk) سے بات کرتے وقت بالکل الگ الفاظ اور افعال استعمال ہوتے ہیں، جبکہ کسی سرکاری افسر، بزرگ یا ہم عمر دوست کے لیے الفاظ کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ اردو سے برمی میں ترجمہ کرتے وقت اگر ادب اور سماجی درجات کے ان فرقوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو ترجمہ کردہ تحریر مقامی قارئین کے لیے انتہائی نازیبا یا نامناسب محسوس ہو سکتی ہے۔

صوتیاتی لہجہ (Tonal Tone) اور اس کے اثرات

برمی زبان کی ایک اور منفرد خصوصیت اس کا صوتیاتی ہونا ہے۔ اس زبان میں تین بنیادی سر (Tones) پائے جاتے ہیں: دھیما، اونچا اور تیز یا کرخت۔ الفاظ کے ہجے ایک جیسے ہونے کے باوجود صرف سر کی تبدیلی سے لفظ کا مطلب مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔ اگرچہ تحریری ترجمے میں یہ فرق بظاہر نظر نہیں آتا، لیکن جب ڈبنگ، سب ٹائٹلنگ یا آڈیو ترجمے کی بات آتی ہے تو یہ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اردو چونکہ صوتیاتی زبان نہیں ہے، اس لیے اردو کے بولنے والوں کے لیے برمی زبان کے ان سروں کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنا اور ان کا درست ترجمہ کرنا خاصی محنت اور مشق کا تقاضا کرتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور مشینی ترجمے کی حدود

موجودہ دور میں مشینی ترجمہ (Machine Translation) اور کمپیوٹر کے معاون ٹولز (CAT Tools) بہت مقبول ہو چکے ہیں۔ لیکن اردو اور برمی جیسی زبانوں کے معاملے میں مشینی ترجمہ اب بھی تسلی بخش نتائج دینے میں ناکام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر ان دونوں زبانوں کا متوازی مواد (Parallel Corpora) بہت کم مقدار میں دستیاب ہے۔ گوگل ٹرانسلیٹ جیسے ٹولز اکثر اردو کے محاوروں اور استعاروں کا برمی میں لفظی اور مضحکہ خیز ترجمہ کرتے ہیں۔ لہذا، کاروباری، قانونی اور ادبی دستاویزات کے لیے انسانی مترجم کی مہارت کی اہمیت برقرار رہے گی، جو مشینی ترجمے کے بعد پوسٹ ایڈٹنگ (Post-editing) کے ذریعے تحریر کو معیاری بناتا ہے۔

اردو سے برمی مترجمین کے لیے عملی اور پیشہ ورانہ مشورے

اگر آپ اردو سے برمی زبان میں ترجمے کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل پیشہ ورانہ طریقوں کو اپنی عادت بنائیں:

  • لفظی ترجمے سے ہمیشہ بچیں: ہمیشہ فقرے کے پیچھے چھپے ہوئے پیغام کو سمجھیں اور اسے برمی زبان کے فطری اندازِ بیان میں لکھیں۔
  • تکنیکی لغت تیار کریں: بار بار استعمال ہونے والے مشکل الفاظ اور اصطلاحات کی ایک لغت (Glossary) بنائیں تاکہ ترجمے میں یکسانیت برقرار رہے۔
  • مقامی قارئین کا خیال رکھیں: یہ سمجھیں کہ آپ کا برمی قاری کون ہے (جیسے طالب علم، کاروباری شخص یا عام قاری) اور اسی کے مطابق زبان کا انتخاب کریں۔
  • یونیکوڈ فونٹس کا استعمال: برمی زبان کے معیاری یونیکوڈ فونٹس (مثلاً Pyidaungsu) کا استعمال سیکھیں تاکہ تحریر کے ڈیجیٹل فارمیٹ میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔
  • مسلسل مطالعہ اور مشق: برمی زبان کے اخبارات، رسائل اور بدھ مت کے بنیادی فلسفے کا مطالعہ کریں تاکہ زبان کے جدید استعمال سے واقف رہ سکیں۔

نتیجہ اور مستقبل کے امکانات

اردو سے برمی ترجمہ صرف ایک پیشہ ورانہ ضرورت ہی نہیں بلکہ دو مختلف ثقافتوں کے درمیان امن اور تفہیم کا پل بنانے کا ذریعہ ہے۔ ان دونوں زبانوں کے درمیان ترجمے کے شعبے میں ابھی بہت کام ہونا باقی ہے اور آنے والے وقت میں سفارتی، تجارتی اور تعلیمی شعبوں میں ہنرمند مترجمین کے لیے مواقع مزید وسیع ہوں گے۔ اگر مترجمین دونوں زبانوں کے لسانی قواعد کے ساتھ ساتھ ان کے تہذیبی پس منظر کو بھی گہرائی سے سمجھیں، تو وہ ایک بہترین اور اثر انگیز ترجمہ پیش کر سکتے ہیں۔

Other Popular Translation Directions