U tarjun Urduu Shiinees - Turjubaan online bilaash ah iyo naxwaha saxda ah | FrancoTranslate

پاکستان اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے اقتصادی، سفارتی اور تعلیمی تعلقات کی وجہ سے دونوں زبانوں کے درمیان ترجمے کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اردو اور چینی (خصوصاً مینڈارن) دو بالکل مختلف لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اردو ایک ہند-آریائی زبان ہے جو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور اس کا بنیادی ڈھانچہ سنسکرت، فارسی اور عربی کے زیرِ اثر ہے، جبکہ چینی زبان ایک سینو-تبتی زبان ہے جو تصویری علامات (Characters) پر مبنی ہے اور بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔ اس لسانی اور تہذیبی فرق کی وجہ سے اردو سے چینی میں ترجمہ کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ یہ عمل محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورا ثقافتی اور فکری تبادلہ ہے۔

0

پاکستان اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے اقتصادی، سفارتی اور تعلیمی تعلقات کی وجہ سے دونوں زبانوں کے درمیان ترجمے کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اردو اور چینی (خصوصاً مینڈارن) دو بالکل مختلف لسانی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اردو ایک ہند-آریائی زبان ہے جو دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے اور اس کا بنیادی ڈھانچہ سنسکرت، فارسی اور عربی کے زیرِ اثر ہے، جبکہ چینی زبان ایک سینو-تبتی زبان ہے جو تصویری علامات (Characters) پر مبنی ہے اور بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔ اس لسانی اور تہذیبی فرق کی وجہ سے اردو سے چینی میں ترجمہ کرنا ایک انتہائی پیچیدہ اور ذمہ دارانہ کام ہے۔ یہ عمل محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورا ثقافتی اور فکری تبادلہ ہے۔

جملے کی ساخت اور قواعد کا بنیادی فرق

ترجمے کے عمل میں سب سے پہلا اور بڑا چیلنج دونوں زبانوں کے گرامر اور جملوں کی ترتیب کا فرق ہے۔ اردو ایک "فاعل-مفعول-فعل" (Subject-Object-Verb / SOV) ترتیب کی زبان ہے۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں: "عامر چائے پیتا ہے"۔ اس جملے میں 'عامر' فاعل، 'چائے' مفعول اور 'پیتا ہے' فعل ہے جو جملے کے آخر میں آتا ہے۔ اس کے برعکس، چینی زبان بنیادی طور پر "فاعل-فعل-مفعول" (Subject-Verb-Object / SVO) ترتیب پر عمل کرتی ہے۔ چینی میں اسی جملے کا ڈھانچہ کچھ یوں ہوگا: "عامر پیتا ہے چائے" (阿米尔喝茶 - Āmǐ'ěr hē chá)۔ اگر کوئی مترجم اردو جملے کی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے چینی میں لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ جملہ چینی قاری کے لیے بالکل ناقابلِ فہم ہو جائے گا۔ اس لیے، کامیاب ترجمے کے لیے ضروری ہے کہ جملے کے مفہوم کو حاصل کرنے کے بعد اسے چینی گرامر کے سانچے میں نئے سرے سے ڈھالا جائے۔

تذکیر و تانیث اور اسم و صفت کے قوانین

اردو زبان میں ہر اسم کے لیے تذکیر و تانیث (جنسی تفریق) کے سخت اصول موجود ہیں۔ یہاں کتابیں، میزیں اور ہوائیں مؤنث ہیں جبکہ قلم، درخت اور بادل مذکر ہیں۔ اس جنسی تفریق کا اثر جملے کے افعال اور صفات پر بھی پڑتا ہے (مثلاً: "اچھی کتاب" اور "اچھا قلم")۔ چینی زبان میں گرامر کے لحاظ سے اسم کی کوئی جنس نہیں ہوتی۔ وہاں قلم ہو یا کتاب، ان کے لیے صفات تبدیل نہیں ہوتیں۔ اسی طرح، چینی زبان میں ضمیرِ غائب (Pronoun) بولنے میں مرد، عورت اور بے جان اشیاء کے لیے ایک ہی آواز "تا" (Tā) استعمال ہوتی ہے، اگرچہ لکھنے میں ان کے حروف مختلف ہوتے ہیں جیسے مرد کے لیے 他، عورت کے لیے 她 اور بے جان کے لیے 它۔ اردو سے چینی ترجمہ کرتے وقت مترجم کو صفت اور اسم کے اس سادہ ڈھانچے کو سمجھنا ہوتا ہے تاکہ وہ بلاوجہ کی پیچیدگیوں سے بچ سکے۔

چینی زبان کے منفرد پیمائشی الفاظ (Measure Words)

چینی گرامر کا ایک اور انتہائی اہم اور منفرد پہلو پیمائشی الفاظ یا کلاسیفائرز (量词 - Liàngcí) کا استعمال ہے۔ اردو میں ہم عام طور پر کہتے ہیں "دو کتابیں" یا "ایک گاڑی"۔ لیکن چینی زبان میں عدد اور اسم کو براہِ راست ایک ساتھ نہیں لکھا جا سکتا۔ ان کے درمیان ایک مخصوص پیمائشی لفظ لگانا لازمی ہوتا ہے جو اس اسم کی جسمانی ساخت یا نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، کتابوں کے لیے پیمائشی لفظ "本" (běn) استعمال ہوتا ہے، گاڑیوں کے لیے "辆" (liàng) اور میز یا کاغذ جیسی چپٹی چیزوں کے لیے "张" (zhāng) استعمال ہوتا ہے۔ اگر آپ نے چینی زبان میں "دو کتابیں" کا ترجمہ کرنا ہے تو وہ "两本书" (Liǎng běn shū) ہوگا، نہ کہ "لیاؤنگ شو"۔ ان پیمائشی الفاظ کا غلط استعمال ترجمے کو غیر معیاری اور غیر پیشہ ورانہ بنا دیتا ہے، لہذا مترجمین کو ان پر مکمل دسترس حاصل ہونی چاہیے۔

ثقافتی استعارے اور چار لفظی تراکیب (Chengyu) کا ترجمہ

چینی زبان کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی کلاسیکی چار حرفی تراکیب ہیں جنہیں "چنگ یو" (成语 - Chéngyǔ) کہا جاتا ہے۔ یہ تراکیب اکثر چین کی ہزاروں سال پرانی تاریخ، لوک داستانوں یا فلسفے سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، چینی محاورہ ہے "画蛇添足" (Huàshétiānzú)، جس کا لفظی مطلب ہے "سانپ بنا کر اس کے پیر بنانا"، لیکن اس کا حقیقی مفہوم ہے "کسی کام میں فضول اور غیر ضروری اضافہ کرنا"۔ اردو کے محاورات جیسے "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا" یا "لوہے کے چنے چبانا" کا چینی میں ترجمہ کرتے وقت لفظی ترجمے سے گریز کرنا چاہیے۔ مترجم کو یا تو چینی زبان میں اس کے مساوی کوئی "چنگ یو" تلاش کرنا چاہیے، یا پھر اس کے اصل مفہوم کو سادہ اور سلیس چینی الفاظ میں واضح کرنا چاہیے۔

شائستگی اور سماجی درجات کا احترام

اردو ثقافت میں شائستگی اور مخاطب کے احترام کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ہم عمر اور مرتبے کے لحاظ سے "تو"، "تم" اور "آپ" کا فرق رکھتے ہیں اور افعال میں بھی احترام کا عنصر شامل کرتے ہیں (جیسے "تشریف لائیے")۔ چینی زبان میں بھی احترام کے درجات موجود ہیں لیکن وہ اردو کی طرح فعل کو تبدیل نہیں کرتے۔ چینی میں عام طور پر "تم" کے لیے "你" (Nǐ) اور احترام کے لیے "您" (Nín) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، القابات اور خاندانی رشتوں کے لیے چینی زبان میں بہت زیادہ باریکیاں پائی جاتی ہیں۔ کاروباری یا سرکاری دستاویزات کا ترجمہ کرتے وقت چینی زبان کے پیشہ ورانہ اور شائستہ لہجے (Business Register) کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے تاکہ ابلاغ مؤثر اور باوقار ہو۔

مترجمین کے لیے اہم اور عملی تجاویز

  • سیاق و سباق (Context) کو ترجیح دیں: چینی زبان میں ایک ہی لفظ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں جو سیاق و سباق کے بدلنے سے مکمل طور پر تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کبھی بھی انفرادی الفاظ کا ترجمہ نہ کریں بلکہ پورے پیراگراف کے مجموعی پیغام پر توجہ دیں۔
  • لفظی ترجمے سے اجتناب: اردو اور چینی زبانوں کے مزاج اور گرامر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لفظی ترجمہ ہمیشہ الجھن کا باعث بنتا ہے۔ مفہوم پر مبنی ترجمہ (Paraphrasing) ہی بہترین حل ہے۔
  • جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کی مدد: ترجمے کے دوران معاون سافٹ ویئرز (CAT Tools) اور مستند لغات کا استعمال کریں، خصوصاً تکنیکی اور قانونی اصطلاحات کے لیے اپنی ایک فرہنگ (Glossary) تیار رکھیں۔
  • مقامی ماہرین سے نظرِ ثانی: ترجمہ مکمل کرنے کے بعد کسی ایسے شخص سے اس کی نوک پلک سنواریں جس کی مادری زبان چینی ہو (Native Speaker)۔ یہ قدم تحریر کی روانی اور فطری بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

Other Popular Translation Directions